ایک ارب روپیہ اور قدرت کا فیصلہ: کیا دولت موت کو ٹال سکتی ہے؟

حامد میر کے حوالے سے ایک مشہور واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ کراچی کے ایک ارب پتی سیاستدان کے بیٹے کو پھانسی کی سزا سنا دی گئی۔ سزا سنانے کے بعد ملزم کے باپ نے مقتولین سے صلح کرنے کی بڑی کوشش کی مگر ناکام رہا۔ آخرکار اس نے ایک بڑے نامور وکیل کے ذریعے کیس کے جج سے رابطہ کیا اور پیشکش کی: “اگر تم میرے بیٹے کو کسی طرح بھی پھانسی سے بچا لو تو میں تمہاری زندگی بدل دوں گا اور تمہیں نقد ایک ارب روپے دوں گا۔”
جج اتنی بڑی رقم سن کر لالچ میں آ گیا اور راضی ہو گیا۔ اس نے خفیہ طور پر جلاد سے رابطہ کیا، اسے بھی کروڑوں روپے کا لالچ دیا اور پلان بنایا کہ “تم نے پھانسی کے وقت رسّی اور پھندے کو اس طرح سیٹ کرنا ہے کہ جب تختہ کھنچے تو لڑکے کی گردن پر جان لیوا دباؤ نہ آئے۔ بس تم نے اسے 15 منٹ تک یونہی لٹکائے رکھنا ہے، 15 منٹ بعد ہم ملی بھگت سے اسے مردہ قرار دے کر ایمبولینس کے ذریعے فرار کروا دیں گے۔”
جلاد بھی دولت کی چمک کے آگے بک گیا اور اس نے جج کے کہے کے مطابق مکمل تیاری کر لی۔ مقررہ دن جب پھانسی کا وقت آیا تو منصوبے کے عین مطابق تختہ کھینچا گیا۔ جلاد نے اپنی پوری مہارت استعمال کرتے ہوئے پھندا اس طرح ڈھیلا رکھا تھا کہ لڑکے کا دم نہ گھٹے۔ سب کچھ ان کی پلاننگ کے مطابق جا رہا تھا اور ارب پتی باپ باہر گاڑی میں اپنے بیٹے کے زندہ واپس آنے کا بے صبری سے انتظار کر رہا تھا۔
لیکن وہ سب بھول گئے تھے کہ انسان کی تدبیریں اللہ کی تقدیر کے آگے بے بس ہیں۔
جیسے ہی لڑکا تختے پر لٹکا اور 15 منٹ کا وقت شروع ہوا، پھندے کی وجہ سے تو اس کی جان نہیں گئی، لیکن موت کے خوف، شدید گھبراہٹ اور دہشت کی وجہ سے تختے پر لٹکتے ہی اسے دل کا شدید دورہ (ہارٹ اٹیک) پڑ گیا۔ جب 15 منٹ پورے ہونے کے بعد اسے اتار کر ایمبولینس میں ڈالا گیا اور ڈاکٹر نے نبض چیک کی، تو وہ واقعی دم توڑ چکا تھا۔
باپ کا ایک ارب روپیہ، جج کا اختیار اور جلاد کی مہارت دھری کی دھری رہ گئی، اور قدرت کا فیصلہ غالب آ گیا۔ بے شک موت کا ایک وقت مقرر ہے اور دنیا کی کوئی دولت اسے نہیں ٹال سکتی۔