میں نے دارالامان والوں کو وصیت کردی ہے کہ جب میں مر جاؤں تو میری میت کسی۔۔۔

میں نے دارالامان والوں کو وصیت کردی ہے کہ مر جاؤں تو میری میت کسی رشتہ دار کو نہ دی جائے ۔۔۔۔ 8 سالوں سے لاہور کے ایک دارالامان میں زندگی گزارنے والی اعلیٰ تعلیمافتہ خاتون عارفہ کی زندگی اور دکھوں کی کہانی ۔۔۔۔۔ عارفہ ایک اچھے خاصے متمول خاندان کی بہو تھیں ، یہ ایم اے پاس تھیں اور ایک سکول میں ٹیچر تھیں۔
سسرال والوں نے کہا نوکری چھوڑ دو ، لوگ باتیں بناتے ہیں کہ بہو سے نوکری کروا رہے ہیں ، انہوں نے ملازمت چھوڑ دی اور گھر بیٹھ گئیں ، بچے نہیں تھے اس لیے کچھ عرصہ بعد میاں نے دوسری شادی کا منصوبہ بنا لیا ، ادھر ایک روز انکا ذاتی 80 تولے سونا گھر میں ہی چوری ہو گیا ، انہیں ہر کسی نے کہا پولیس میں رپورٹ کرو اور اپنا سونا واپس لو ، چور گھر کے اندر ہے ، لیکن یہ مصلحتوں کی وجہ سے خاموش ہو گئیں ،اب شوہر ان سے دور دور رہنے لگے اور ساس و نندوں نے جھگڑنا شروع کردیا ، آخر ایک روز انکے شوہر نے طلاق دے کر انہیں گھر سے نکال دیا حالانکہ انہیں اپنے شوہر کی دوسری شادی پر بھی اعتراض نہ تھا ،ادھر سے نکل کر یہ بھائیوں کے گھر گئیں کیونکہ والدین وفات پا چکے تھے ، بھائی اور بھابیاں کچھ دن برداشت کرتے رہے ایک روز بھابیوں نے کہا ہم آپ کو افورڈ نہیں کر سکتے ، آپ اپنا کوئی اور بندوبست کر لیں ، یہ باہمت خاتون پھر ایک خواتین کے ہاسٹل میں وارڈن لگ گئیں اور وہیں رہنے لگیں ، اس ملازمت میں زندگی کے آٹھ سال گزر گئے ، بھائیوں نے کبھی آکر حال بھی نہ پوچھا پھر کرونا کا دور آیا تو انکی ملازمت چلی گئی اور یہ بیمار بھی رہنے لگیں ، ایک بار پھر عارفہ اپنے بھائیوں کے گھر گئیں مگر چند روز بعد بڑی بھابھی نے انہیں دھکے دے کر گھر سے نکال دیا کہ تمہارا تو کوئی آگے پیچھے ہے نہیں ہماری زندگیاں تو خراب نہ کرو ۔۔۔ ایک جاننے والی خاتون نے انہیں اس دارالامان میں پہنچا دیا ، عارفہ خدا کا شکر ادا کرتی ہیں کہ وہ ایک اچھی جگہ آگئیں ، یہاں وہ بالکل خوش اور محفوظ ہیں ، اس دارالامان کی منتظم آنسہ بی بی انکی ماں بھی ہیں ، بہن بھی اور بیٹی بھی ، چنانچہ وہ انہیں وصیت کرچکی ہیں کہ جب مرجاؤں تو مجھے رشتہ داروں کے حوالے نہ کرنا خود ہی کسی قبرستان میں دفنا دیا ۔۔۔۔۔۔ اللہ کریم ہماری اس بہن کی زندگی کو سکون اور اطمینان کا گہوارہ بنا دے آمین