Urdu News

کیا مرد ایسے ہی ہوتے ہیں؟

“مرد ایسے ہی ہوتے ہیں، گھروں میں لڑائی جھگڑے ہو جاتے ہیں…”

یہ وہ جملہ ہے جو ایک زخمی خاتون کو اس وقت سننا پڑا جب وہ اپنی ٹانگ پر پڑے تشدد کے گہرے نشانات کے ساتھ مدد مانگنے گئی۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں نظر آنے والی خاتون سیدہ نمرہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی شادی کے تیسرے دن سے ہی ان پر تشدد کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا اور گزشتہ بارہ برس سے وہ اسی اذیت سے گزر رہی ہیں۔

نمرہ کے مطابق ابتدا میں ان کے شوہر شراب نوشی کے بعد انہیں مارتے پیٹتے تھے، مگر گزشتہ تین سال سے آئس کے نشے نے ان کی ذہنی حالت کو مزید خطرناک بنا دیا۔ تشدد اس قدر بڑھ گیا کہ حالیہ واقعے میں ان کے شوہر نے پستول کے بٹ سے انہیں مارا اور ان کی ٹانگ تک توڑنے کی کوشش کی۔

متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے شوہر کو علاج کے لیے ایک نجی اسپتال میں بھی داخل کروایا تھا، مگر واپسی کے ڈیڑھ ماہ بعد وہ دوبارہ آئس کے نشے میں مبتلا ہو گئے اور تشدد کا سلسلہ پہلے سے زیادہ شدت اختیار کر گیا۔

نمرہ کے مطابق جب وہ تھانہ ستو کتلہ پہنچیں تو انہیں مبینہ طور پر یہ کہہ کر واپس کر دیا گیا کہ
“دس پندرہ دن انتظار کر لیں، بات چیت سے مسئلہ حل ہو جائے گا… گھروں میں لڑائی جھگڑے ہو جاتے ہیں۔”

نمرہ کا سوال ہے:
جو شخص بارہ سال میں نہیں بدلا، جو مجھے اور میری بیٹیوں کو مارتا ہے، وہ اب کیسے سدھر جائے گا؟

وہ یہ بھی بتاتی ہیں کہ جب وہ اسپتال گئیں تو ابتدائی طور پر عملے نے بھی معاملے کو سنجیدہ نہیں لیا اور کہا کہ ایسے جھگڑے گھروں میں ہوتے رہتے ہیں۔ اس پر انہیں اپنی شلوار اوپر کر کے ٹانگ پر موجود خوفناک تشدد کے نشانات دکھانے پڑے تاکہ لوگوں کو اندازہ ہو سکے کہ ان کے ساتھ کیا ہوا ہے۔

نمرہ کا دعویٰ ہے کہ ان کے شوہر کو ایک بااثر سیاسی شخصیت کی حمایت حاصل ہے، جس کے باعث انہیں مسلسل دھمکیوں اور دباؤ کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے اکلوتے بھائی اور بچوں کی جان کو بھی خطرہ ہے۔

انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے اپیل کی ہے کہ اس معاملے کا نوٹس لیا جائے اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔ نمرہ کہتی ہیں کہ انہیں امید ہے کہ ایک خاتون اور صوبے کی سربراہ ہونے کے ناطے وزیراعلیٰ ان کے درد کو سمجھیں گی۔

یہ واقعہ صرف ایک گھر کی کہانی نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کا وہ تلخ پہلو ہے جہاں اکثر گھریلو تشدد کو “گھریلو معاملہ” کہہ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا ایک عورت کو انصاف حاصل کرنے کے لیے اپنے زخم اس طرح سب کے سامنے دکھانا ضروری ہے؟

Source : Shariq Ali Shariq

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *