Sunday, November 30, 2025
Pakistan

لاہور میں نوجوان ماں کی فریاد — سابق شوہر کی بلیک میلنگ

لاہور میں ایک دل خراش معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں ثمرین نامی لڑکی—جو کبھی کالج کی طالبہ تھی—اپنے سابق شوہر اور پولیس اہلکاروں کی مبینہ بلیک میلنگ کا شکار بن رہی ہے۔

ثمرین کے مطابق چند سال پہلے وہ موبائل خریدنے گئی تو اس کی دوستی ایک نوجوان نقاش سے ہوئی، جو بعد میں محبت میں بدل گئی۔ 2017 میں نقاش اسے عدالت لے گیا جہاں ثمرین نے اسلام قبول کیا اور دونوں نے کورٹ میرج کر لی۔ مگر شادی کے فوراً بعد اسے گھر لے جانے کے بجائے ہوٹلوں میں ملتا رہا اور پھر واپس اس کی والدہ کے گھر چھوڑ دیتا رہا۔ 2019 میں رخصتی ہوئی اور ثمرین سسرال پہنچ گئی، جہاں اللہ نے انہیں دو بچوں سے نوازا۔

بعد ازاں ثمرین کا کہنا ہے کہ نقاش نے اس سے انتہائی گھٹیا مطالبہ کیا کہ وہ اس کے دوستوں کے ساتھ بھی وقت گزارے۔ انکار پر 2022 میں طلاق ہو گئی اور بچے نقاش کے پاس رہ گئے۔

ثمرین کے مطابق 2025 میں نقاش اس کے گھر آیا اور کہا کہ وہ 5 لاکھ روپے کے بدلے بچے واپس دے دے گا۔ انکار پر وہ بچوں سمیت غائب ہوگیا۔ ثمرین نے لاہور کے مختلف تھانوں میں درخواستیں دیں، مگر الٹا اس پر ہی مقدمات درج ہونا شروع ہوگئے۔

ثمرین کا کہنا ہے کہ کچھ پولیس اہلکار اسے بلیک میل کرتے ہیں جبکہ اس کے سابق شوہر اور اس کے گھر والوں کے تمام نمبر بند ہیں اور وہ مکان بھی تبدیل کر چکے ہیں۔ وہ دو سال سے اپنے بچوں کے چہرے کو ترس رہی ہے اور انصاف کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھا رہی ہے۔

ثمرین کی اپیل ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کی آواز سنیں اور اسے انصاف دلائیں تاکہ وہ اپنے بچوں سے دوبارہ مل سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *