والدین کے بعد اعتماد والا رشتہ اُستاد کا ہوتا ہے مگر یونیورسٹی کی اس طالبہ کا پروفیسر نے پیپرز کے بدلے

دہلی یونیورسٹی کی طالبہ کا پروفیسر پر ہراسانی کا الزام
تعارف: یہ معاملہ پورے ملک میں بحث کیوں بن گیا؟
دہلی یونیورسٹی کی ایک طالبہ کی جانب سے ہراسانی کے سنگین الزامات نے بھارت بھر کے تعلیمی حلقوں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شدید ردِعمل کو جنم دیا ہے۔ طالبہ کی جانب سے شیئر کی گئی ڈھائی منٹ کی ویڈیو تیزی سے وائرل ہو گئی، جس میں وہ اپنے شعبے کے ایک پروفیسر اور ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ پر ہراسانی، دھمکی اور تعلیمی بدعنوانی کے الزامات عائد کرتی نظر آتی ہے۔
اس واقعے نے ایک بار پھر طلبہ کے تحفظ، اختیارات کے غلط استعمال اور بھارتی جامعات میں احتساب جیسے اہم سوالات کو زندہ کر دیا ہے۔
وائرل ویڈیو میں کیا انکشاف کیا گیا؟
ویڈیو میں طالبہ بتاتی ہے کہ اس نے اس سے قبل انسٹاگرام پر ایک پوسٹ شیئر کی تھی، جس میں اس نے ایک پروفیسر کے مبینہ نامناسب رویے کے بارے میں بات کی تھی۔
طالبہ کے مطابق، اس پوسٹ کے بعد نے اسے اپنے دفتر بلا کر دباؤ ڈالا اور کہا کہ وہ پروفیسر کے خلاف بنائی گئی تمام ویڈیوز ڈیلیٹ کر دے۔
طالبہ کا کہنا ہے
“مجھے کہا گیا کہ میں پروفیسر کے خلاف جو بھی ویڈیوز لگائی ہیں، سب ڈیلیٹ کر دوں۔
یہ بھی کہا گیا کہ میں اس یونیورسٹی کا بہت چھوٹا سا حصہ ہوں اور وہ میرا مستقبل تباہ کر سکتے ہیں۔”
یہ ویڈیو جذباتی انداز میں ریکارڈ کی گئی، جس نے عوامی سطح پر شدید ردِعمل کو جنم دیا۔
پروفیسراور ڈیپارٹمنٹ ہیڈ پر الزامات
طالبہ کے مطابق
- پروفیسر نے اسے ایڈمٹ کارڈ جاری کرنے سے انکار کیا
- کلاس کے کچھ طلبہ کو مبینہ طور پر:
- اس کے خلاف بیان دینے کے لیے آمادہ کیا گیا
- ان طلبہ نے:
- HOD کے سامنے پروفیسر کا دفاع کیا
طالبہ کا دعویٰ:
“سات یا آٹھ طلبہ کے پاس گئے اور کہا کہ پروفیسر ٹھیک ہے اور میں غلط ہوں۔
یہ طلبہ امتحان میں 40 نمبروں کے لیے بکے گئے۔
یہ ہے — ویلکم ٹو ۔”
تعلیمی بدعنوانی اور اختیارات کے غلط استعمال کا الزام
طالبہ نے دہلی یونیورسٹی کے تعلیمی نظام پر نہایت سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ:
- نمبرز:
- خالصتاً میرٹ پر نہیں دیے جاتے
- بہتر گریڈز:
- اس بات پر منحصر ہوتے ہیں کہ
- طالب علم پروفیسرز کے کمروں میں کتنا وقت گزارتا ہے
طالبہ کے بقول:
“یہ یونیورسٹی دھمکیوں اور دباؤ کے ذریعے چلائی جا رہی ہے۔”
ان الزامات نے بھارت کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں شفافیت اور اخلاقیات پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔