Thursday, February 5, 2026
Urdu News

شاد باغ لاہور کی 2 بچوں کی ماں کا بار بار آشناؤں کے ساتھ گھر سے فرار

یا اللہ معافی: پاکستان کی تاریخ کا ایک اور شرمناک ترین کیس : شاد باغ لاہور کی 2 بچوں کی ماں کا بار بار آشناؤں کے ساتھ گھر سے فرار ۔۔۔۔ پھول جیسے دو بچے اور چاہنے والا شوہر رل گئے ۔۔۔۔۔۔ صائقہ کی شادی 2016 میں اپنے چچا زاد سے ہوئی ، زندگی بہترین تھی ، گھر میں دنیا کی ہر سہولت موجود تھی ، مشترکہ فیملی سسٹم تھا ، ان کے دو بچے ہوئے بڑی بیٹی 7 سات سال کی اور بیٹا 4 سال کا ہے ، اتنے پیارے بچے کہ دیکھتے رہو اور آنکھیں نہ تھکیں ، ماں اور باپ دونوں کو بچے بہت پیارے تھے ، لیکن 2 سال قبل یعنی 2023 کے آخر میں صاعقہ گھر سے اپنا سامان کپڑے اور دونوں بچوں کو لے کر اپنے ایک آشنا کے پاس شکار پور چلی گئی ، پیچھے سسرال اور میکے والوں نے زمین آسمان ایک کردیا ، ہر حربہ آزمایا اور پولیس کی مدد سے صاعقہ کو شکار پور میں ٹریس کرکے واپس لاہور لایا گیا ، لاہور پہنچنے کے بعد صاعقہ نے بہانہ بنایا کہ وہ ایک این جی او میں کام کرنے کی غرض سے گئی تھی اسکا کوئی غلط ارادہ یا مقصد نہیں تھا ، اس نے گڑگڑا کر شوہر سے معاف مانگی ، سسر اور ساس اور اپنے والدین کے پیر پکڑ لیے ، شوہر دل سے محبت کرتا تھا اسے ترس آگیا بیوی اور بچوں پر اس لیے اس نے بیوی کو دل سے معاف کردیا ، لیکن اس سے نہ صرف موبائل واپس لے لیا گیا بلکہ اسکے بلا اجازت اور بغیر کسی شخص کے گھر سے باہر نکلنے پر پابندی لگا دی گئی ، صاعقہ لیکن باز نہ آئی اس نے نہ جانے کیسے ایک موبائل چوری سے پاس رکھ لیا ، وہ ساس سسر اور بھابیون کو بتاتی کہ وہ اپنے کمرے میں نماز اور عبادات کررہی ہے لہذا کوئی اسے تنگ نہ کرے ۔ وہ دروازہ بند کر لیتی اور گھنٹوں کمرے میں بند رہتی ، سادہ لوح سسرال والے لاعلم رہے ، شوہر بے چارہ روزی روٹی کے چکروں میں رہا اور صاعقہ نے قیامت برپا کر دی ، وہ ایسے کہ ایک روز اس نے شوہر کے گھر میں رہنے کے باوجود بہانےسے چند گھنٹوں کے لیے باہر جاکر اپنے دیور یعنی اپنی چھوٹی بہن کے منگیتر کے ساتھ نکاح نامے پر دستخط کر دیے اور اس سے پہلے خلع کا بیان بھی دے دیا ۔ وہ واپس گھر آگئی اور کچھ ہفتے شوہر کے گھر میں گزار دیے اور ایک روز اچانک پھر بچوں کو ساتھ لے کر چلی گئی ، کچھ روز بعد شوہر اور سسرالی فیملی کے علاوہ اس کے میکےکو بھی معلوم ہو گیا کہ چھوٹی کےمنگیتر اور صاعقہ نے چن چڑھا دیا ہے ۔۔۔۔اس وقت دونوں خاندان نہ صرف شرم سے پانی پانی ہیں بلکہ ایک طرح سے سکتے کی کیفیت میں ہیں ، البتہ دونوں خاندانوں کا فیصلہ اور مطالبہ ہے کہ کسی طرح انہیں بچے مل جائیں ، صاعقہ جائے بھاڑ میں ۔۔۔۔ پولیس اور عدالتیں بھی ان کا ساتھ دینے سے معذور ہیں کیونکہ پولیس کے بقول ایک عورت نے خلع لے کر دوسری شادی کی ہے ۔۔۔۔ اب یہ کوئی ماہر قانون یا عالم دین ہی بتا سکتا ہے کہ پہلے شوہر کے علم میں لائے بغیر اور اسکے ساتھ رہنے کے دوران خلع کیسے ہو سکتی ہے اور چوری چھپے دوسری شادی کیسے کی جا سکتی ہے ۔۔۔ اگر کسی کے ذہن میں کوئی نکتہ آئے تو کمنٹس میں بیان کریں کیونکہ دونوں خاندان مایوس ہو کر بیٹھ گئے ہیں اور صرف بچوں کے متمنی ہیں کہ انہیں اپنے بچے واپس مل جائیں ۔۔۔۔۔ اللہ کریم ہماری نوجوان نسل کو موبائل فون اور انٹرنیٹ کے مضر اثرات سے محفوظ فرمائے کیونکہ اونچی حویلیوں اور مضبوط چار دیواریوں میں کوئی اجنبی ان دیکھے طریقے سے کیسے پہنچ سکتا ہے یہ موبائل فون نے کرکے دکھا دیا ہے ۔۔۔۔






Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *