نا۔جائز تعلقات کی دلدادہ مگر اپنے عاشق کو تڑپا تڑپا کر مارنے والی عورت

برے کا انجام برا : نا۔جائز تعلقات کی دلدادہ مگر اپنے عاشق کو تڑپا تڑپا کر مارنے والی عورت خود بھی ق۔ت۔ل ہو گئی ۔۔۔صوبہ پنجاب کی تاریخ کے ایک لرزہ خیز ق۔ت۔ل کی تفصیلات تفتیشی افسر کی زبانی ۔۔۔۔2024 سے پہلے چونیاں کی نویدہ نامی ایک خاتون کے علاقے کے بااثر اور امیر شخص سردار افضل کے ساتھ 2 سال سے ناجائز تعلقات تھے ، 70 سالہ سردار افضل کی ہوس ابھی ختم نہیں ہوئی تھی جبکہ دوسری جانب نویدہ ایک غریب گھرانے کی خاتون مگر پیسے کی شدید ضرورتمند تھی ، 2 سال یہ تعلقات چلتے رہے مگر پھر نویدہ نے ان تعلقات کو فل سٹاپ لگانا چاہا تو سردار افضل نے اسے پیار سے سمجھایا پھر سختی کی کہ میرا اتنا پیسہ کھا کر اب تم مجھ سے کیسے جدا ہو سکتی ہو ، اسی تنازعے میں ایک روز جب نویدہ سردار افضل سے ملنے آئی تو خاص لمحات میں اس نے ایک تیز دھار آلے سے سردار افضل کے مخصوص اعضاء کر جسم سے جدا کردیا اور فرار ہو گئی ، سردار افضل شرم کے مارے یا دیگر وجوہات پر 2 دن زخمی حالت میں برہنہ موقع واردات پر پڑا رہا اور پھر وہیں چل بسا ، پورے علاقے کو سردار افضل اور خاتون نویدہ کے تعلقات کا علم تھا انکے موبائل ریکارڈ گواہ تھے اور پھر سردار افضل کے بیٹوں نے اسے نامزد ملزمہ قرار دیا چنانچہ کچھ روز بعد نویدہ کو گرفتار کر لیا گیا اس نے پولیس کے سامنے اقرار جرم کیا وجہ یہ بتائی کہ میں راہ راست پر آنا چاہتی تھی جبکہ سردار نوید مجھے اسی طرح رکھیل بنا کے رکھنا چاہتا تھا ، عدالت نے اسے جیل بھیج دیا مگر کچھ ماہ بعد نویدہ ضمانت پر رہا ہو گئی ، یہ اپنے کیس کی خود پیروی کرتی رہی یہاں تک کہ جون 2025 کا وہ دن آیا جب نویدہ کو پیشی پر عدالت جاتے ہوئے کچہری کے قریب گو۔لیاں مار کر ق۔ت۔ل کردیا گیا اور ملزمان موقع سے فرار ہو گئے ، مق۔تولہ نویدہ کے لواحقین نے بھی ملزمان کو نامزد کیا ، ان میں سے ایک ملزم کو پولیس نے گرفتار کیا تو اس نے شو۔ٹرز کے نام بتا دیے ،گرفتار ملزم کی نشاندہی پر شو۔ٹرز کی گرفتاری کے لیے پولیس نے ایک حویلی پر ریڈ کیا تو ملزمان نے فائیر۔نگ کردی پولیس کی جوابی فائیر۔نگ سے ایک شو۔ٹر حمزہ نامی موقع پر مارا گیا جب کہ دوسرا تاحال مفرور ہے ۔۔۔۔۔باقی ماندہ حقائق یہ ہیں کہ سردار افضل بال بچے دار آدمی تھا علاقہ میں اسکا سیاسی اثر رسوخ اور اچھا خاصا کاروبار تھا لیکن ناجائز تعلقات نے ساری زندگی کے کیے کرائے پر پانی پھیر دیا جس نے بھی اسکا انجام سنا کانوں کو ہاتھ لگاتا رہا دوسری جانب ملزمہ بھی شادی شدہ 2 بچوں کی ماں تھی لیکن مادی ضروریات نے اسے گناہ کی دلدل میں دھکیل دیا اور آخر کار تھانے کچہری کے چکروں میں خود بھی انجام کو پہنچی ،دونوں کے لواحقین کے حصے میں شرمندگی اور رسوائی کے سوا کچھ نہ آیا ۔۔۔۔۔۔۔اللہ کریم ہر مرد و زن کو درست راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے کیونکہ اللہ اور اسکے رسول کی بتائی ہوئی راہ ہی سب سے اچھی اور سیدھی راہ ہے۔۔