16 سال بعد قانون کے شکنجے میں آیا استاد کا قاتل شاگرد

خانیوال کی اس خاموش گلی میں سن 2010 کی وہ منحوس رات آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں زندہ ہے، جب ایک ریٹائرڈ خاتون ٹیچر نسیم اختر اپنے ہی گھر میں بے دردی سے قتل کر دی گئیں۔ محلے والوں کو دو دن تک کچھ خبر نہ ہوئی، مگر جب گھر سے بدبو اٹھنے لگی تو دروازہ کھولا گیا اور اندر کا منظر دیکھ کر ہر آنکھ خوف سے پتھرا گئی۔ وہ خاتون جو عمر بھر بچوں کو تعلیم دیتی رہیں، اپنے ہی شاگرد کی درندگی کا شکار بن چکی تھیں۔
تحقیقات میں سامنے آیا کہ قاتل کوئی اجنبی نہیں بلکہ ان کا سابق شاگرد جاوید اور اس کے ساتھی تھے۔ پہلے انہوں نے خاتون کو نیند آور گولیاں دے کر بے ہوش کیا، پھر گھر میں موجود نقدی اور زیورات لوٹے اور آخر میں ان کی جان لے کر فرار ہو گئے۔ پولیس نے کچھ ہی ہفتوں میں ایک ملزم کو گرفتار کر لیا، مگر مرکزی ملزم جاوید ایسے غائب ہوا جیسے زمین نگل گئی ہو۔ سولہ برس تک وہ شہر شہر بھٹکتا رہا، مزدوریاں کرتا رہا اور ہر وقت گرفتاری کے خوف میں زندگی گزارتا رہا۔
وقت گزرتا رہا مگر ایک بے گناہ کے خون کی پکار خاموش نہ ہوئی۔ حالیہ مہینوں میں پنجاب پولیس نے پرانے سنگین مقدمات کے اشتہاری ملزمان کے خلاف دوبارہ مہم شروع کی تو جاوید کا نام پھر سامنے آیا۔ جدید طریقوں اور مسلسل نگرانی کے بعد آخرکار جہلم سے اسے گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس کے مطابق ملزم نے اعتراف کیا کہ وہ برسوں تک موبائل فون سے دور رہا تاکہ پکڑا نہ جا سکے، مگر قسمت نے آخرکار اسے قانون کے سامنے لا کھڑا کیا۔
یہ واقعہ ایک بار پھر یاد دلاتا ہے کہ جرم چاہے کتنے برس چھپا رہے، سچ ایک نہ ایک دن سامنے آ ہی جاتا ہے۔ بے گناہ کا خون کبھی رائیگاں نہیں جاتا، اور قانون کی گرفت دیر سے سہی مگر آخرکار پہنچ ہی جاتی ہے۔