نور فاطمہ کیساتھ آپریشن تھیٹر میں کیا ہوا؟

20سالہ نور فاطمہ یہ نہیں جانتی تھی کہ وہ آپریشن تھیٹر نہیں بلکہ موت کے منہ میں جا رہی ہے!
یہ واقعہ ہے لاہور شفیق آباد کا! جہاں پر ایک پرائیوٹ اسپتال فرحت کلینک پر 17سالہ نور فاطمہ کو لایا گیا!دورانِ ڈیلیوری نور فاطمہ کی جان چلی گئی مگر اسپتال انتظامیہ کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی اور وہ فیملی کو دلاسے دیتے رہے جبکہ نور فاطمہ کو ایک گھنٹے سے زائد آپریشن تھیٹر میں ہی رکھا گیا!بعد میں کہا گیا کہ اس کی حالت غیر ہے اسے میو اسپتال لیجایا جائے! اور 50ہزار روپے لے کر ،نورفاطمہ کو مصنوعی وینٹی لیٹر پر منتقل کر کے اسے میو اسپتال لیجانے کا کہا گیا!جب لواحقین نور فاطمہ کو لے کر میو اسپتال پہنچے تو پتہ چلا کہ نور کی 2گھنٹے قبل موت واقع ہوچکی ہے!لواحقین کا کہنا ہے کہ انہوں نے آپریشن کرنے کا اڑھائی لاکھ جمع کرایا جبکہ باڈی 50ہزار دینے کے بعد دی گئی!یہ پہلا واقعہ نہیں اس سے قبل بھی فرحت اسپتال میں اسی نوعیت کے 10سے 12کیسز ہوچکے ہیں اور کئی لوگ زندگی کی بازی ہار چکے ہیں!
اب دیکھنا یہ ہے کہ محکمہ صحت کارروائی کرتے ہوئے ذمہ داری کا کیفرکرادر تک پہنچاتا ہے یا معاملہ یوں ہی چلتا رہے گا!