پردیسی کو عید گھر گزارنے کی خواہش موت کا سبب بن گئی

مظفر گڑھ کے ایک گاؤں میں پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا۔ صفدر نامی شخص چند سال قبل تک اپنے علاقے میں کریانے کی ایک چھوٹی دکان چلاتا تھا، مگر محدود آمدن کے باعث گھر کے اخراجات اور تین بچوں کی تعلیم و پرورش مشکل ہو رہی تھی۔ بہتر مستقبل کی امید میں اس کی اہلیہ شہناز نے رشتہ داروں سے مدد مانگی اور یوں 2024 میں صفدر کو سعودی عرب میں ملازمت کا موقع مل گیا۔
سعودی عرب جانے کے بعد صفدر محنت سے کام کرتا اور اپنی کمائی کا زیادہ تر حصہ گھر بھیج دیتا۔ گھر کے حالات بھی آہستہ آہستہ بہتر ہونے لگے۔ بچوں کو نجی اسکول میں داخل کرا دیا گیا اور گھر کے معاملات سنبھلنے لگے۔ اسی دوران شہناز کی بچوں کو اسکول چھوڑنے کے دوران طارق نامی شخص سے جان پہچان ہوئی، جو اپنے بچے کو وہیں لاتا تھا۔ رفتہ رفتہ دونوں کے درمیان رابطے بڑھتے گئے اور یہ تعلق دوستی سے آگے بڑھ گیا۔
تقریباً دو سال اسی طرح گزر گئے۔ اسی دوران رمضان سے چند دن پہلے صفدر اچانک بغیر اطلاع دیے سعودی عرب سے گھر واپس آ گیا۔ وہ اپنے اہلِ خانہ کو خوشگوار سرپرائز دینا چاہتا تھا۔ گھر والے اس کی آمد پر خوش تھے، مگر بتایا جاتا ہے کہ اس کی اہلیہ اس صورتحال سے پریشان نظر آنے لگی، کیونکہ صفدر نے بتایا تھا کہ وہ عید گھر والوں کے ساتھ گزار کر دوبارہ واپس جائے گا۔
پولیس کے مطابق چند دن بعد رات کے وقت صفدر کی طبیعت اچانک خراب ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔ صبح شہناز نے رشتہ داروں اور پڑوسیوں کو اطلاع دی کہ صفدر سویا ہوا تھا مگر اب اٹھ نہیں رہا۔ اطلاع ملنے پر لوگ جمع ہو گئے اور پولیس کو بھی آگاہ کر دیا گیا۔
تحقیقات کے دوران پولیس کو صفدر کے گلے پر دباؤ کے نشانات ملے، جس کے بعد معاملہ مشکوک ہو گیا۔ مزید پوچھ گچھ پر پولیس نے شہناز کو حراست میں لے لیا۔ تفتیش کے دوران اس نے مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ اس نے اپنے مبینہ ساتھی طارق کے ساتھ مل کر یہ منصوبہ بنایا تھا۔ بعد ازاں پولیس نے طارق کو بھی گرفتار کر لیا۔
واقعے کے بعد صفدر کے تینوں بچوں کو ان کے دادا دادی کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ درج کر کے مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔ یہ واقعہ ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کی یاد دلاتا ہے کہ بعض اوقات زندگی کو بہتر بنانے کی جدوجہد کرنے والے لوگ خود ہی المناک انجام کا شکار ہو جاتے ہیں۔