جب اطالوی جج نے پھانسی سے پہلے سونے کا قلم پیش کیا… تو 73 سالہ شیرِ صحرا کا جواب سن کر عدالت میں موت کا سناٹا چھا گیا

اٹلی کی ایک فوجی عدالت میں خاموشی راج کر رہی تھی۔ جج نے لیبیا کے 73 سالہ بوڑھے اور زنجیروں میں جکڑے مجاہد ‘عمر مختار’ کے سامنے ایک معافی نامہ اور اپنا قیمتی سونے کا قلم رکھا اور پیشکش کی: “تمہارے بال سفید ہو چکے ہیں، بس اس کاغذ پر دستخط کر دو اور اپنے مجاہدین کو جنگ روکنے کا حکم دے دو… میں تمہیں پھانسی سے بچا کر عزت کی زندگی دوں گا!” لیکن دستخط کی آفر سے پہلے عدالت میں ہونے والا مکالمہ تاریخ کا حصہ بن چکا تھا:
جج: “کیا تم نے 20 سال تک اٹلی جیسی سپر پاور کے خلاف جنگ لڑی؟”
عمر مختار: “ہاں۔”
جج: “کیا تمہیں اپنے کیے پر ذرہ برابر بھی افسوس ہے؟”
عمر مختار: “بالکل نہیں۔”
جج: “کیا تم جانتے ہو کہ کل صبح تمہیں پھانسی دی جائے گی؟ تم جیسے بہادر شخص کے لیے ایسا انجام بہت افسوسناک ہے۔”
یہ سن کر زنجیروں میں جکڑے عمر مختار کے چہرے پر ایک پُرسکون مسکراہٹ آئی اور وہ کڑک دار آواز میں بولے: “اس کے برعکس! اپنے رب کے پاس جانے کا اس سے خوبصورت طریقہ اور کیا ہو سکتا ہے؟”
جب جج نے قلم آگے کر کے انہیں زندگی کی بھیک دینی چاہی، تو شیرِ صحرا نے وہ قلم ایک طرف دھکیلا اور وہ سنہرے الفاظ کہے جنہوں نے اطالوی غرور کو خاک میں ملا دیا:
“میری یہ انگلیاں… جو دن میں پانچ بار نماز میں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ اللّٰہ کے سوا کوئی معبود نہیں، یہ کبھی کوئی جھوٹی بات نہیں لکھ سکتیں! کان کھول کر سن لو، ہم ہتھیار نہیں ڈالتے؛ یا تو ہم کامیاب ہوتے ہیں یا شہید۔ اور اگر ہم شہید بھی ہو جائیں تو بھی ہم جیت جاتے ہیں اور تم ہار جاتے ہو!”
آج اٹلی کے ان مغرور ججوں اور جرنیلوں کی قبروں کا کسی کو نام و نشان تک معلوم نہیں، لیکن عمر مختار (شیرِ صحرا) کا نام آج بھی غیرت، حریت اور آزادی کی سب سے بڑی علامت بن کر دنیا بھر کے مسلمانوں کے دلوں میں زندہ ہے۔