Urdu News

لاہور : اربوں پتی خاندان کی بیٹی کی شک نے جان لے لی

بختاور کے بخت ساتھ چھوڑ گئے : جہیز میں ڈیڑھ سو تولہ سونا ، برانڈرتھ روڈ پر دکان ، ڈی ایچ اے میں پلازہ لانیوالی خاتون 12 سالہ بعد شوہر کے ہاتھوں بے رحمانہ طریقے سے ق۔ت۔ل ۔۔ش ۔س۔۔ شادمان کے علاقہ میں کچھ روز قبل پیش آیا لرزہ خیز واقعہ ۔۔۔۔ بختاور شادمان کے ایک بڑے کاروباری شخص کی بیٹی تھی اس کی شادی 12 سالہ قبل بہت قریبی رشتہ دار اسماعیل سے ہوئی جس میں دونوں کی پسند شامل تھی ، بختاور کے والد نے اسے جہیز میں 150 تولے سونا ، برانڈرتھ روڈ پر ایک دکان ، ڈی ایچ اے میں ایک پلازہ اور دنیا کی ہر وہ چیز دی جسکے لاکھوں والدین صرف خواب دیکھتے ہیں ۔۔ کچھ عرصہ تو معاملات ٹھیک چلے بختاور اور اسماعیل کے 2 بیٹے اور ایک بیٹی بھی پیدا ہو گئی مگر پچھلے 6 ماہ سے سسرالی خاندان کی نیت میں فتور آگیا ،یہ لوگ چاہتے تھے کہ بختاور کے والد نے جو پراپرٹی اسکے نام کی تھی وہ سب بختاور انکے نام کردے تاکہ وہ اسے بیچ سکیں ۔ یاد رہے کہ گزشتہ کچھ سالوں سے مفت کا مال کھا کھا کر اسماعیل آئیس کے نشا کا عادی ہو چکا تھا ۔ وقوعہ سے ایک روز قبل بختاور کی ساس اور اسماعیل کے بھائی آئے اور بختاور کے والد سے تمام جائیداد کی رجسٹریاں اور ایک کروڑ روپیہ کیش بھی لے گئے لیکن اسی رات اسماعیل اور بختاور کے درمیان اس قیمتی گاڑی کو بیچنے پر جھگڑا ہوا جو بختاور کے پاس تھی ، اسماعیل وہ گاڑی بھی بیچنا چاہتا تھا جبکہ بختاور نے انکار کردیا ، غصے میں آکر اسماعیل نے بختاور کو ایک شیشے کا گلاس مارا وہ زمین پر گر کر ٹوٹ گیا تو اس نے وہ ٹوٹا گلاس اٹھایا اور بختاور کے گلے پر مارنے لگا ، وہ لہو۔لہان ہو کر گر گئی تو اسماعیل اسکے چہرے اور جسم کے مختلف حصوں پر وار کرتا رہا تھوڑی ہی دیر میں بختاور کی موت واقع ہو گئی ۔ ملزم اور اسکے گھر والوں نے واقعہ کو ڈ۔کیتی کا رنگ دینے کی کوشش کی سب سے پہلے اسماعیل کار پر گھر سے نکلا اور اپنا آئیس کا سامان شادمان نالے میں پھینک آیا ۔ اس دوران ان لوگوں نے بختاور کے والد کو بھی بلا لیا تھا وہ آئے تو انہیں کہا گیا کہ ڈا۔کو آئے تھے اور بختاور ان سے لڑ پڑی مزاحمت پر ڈا۔کوؤں نے خنجر کےو ار سے اسے مار ڈالا اور فرار ہو گئے ۔۔۔ بختاور کے والد نے 15 کو اطلاع کی پولیس آئی تو تمام حالات و واقعات کو مشکوک جانا گیا ، پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیجز دیکھی تو صبح کے 2،3 گھنٹے کی ویڈیو بھی غائب تھی حالات مشکوک جان کر جب اسماعیل کو گرفتار کیا گیا اور تھانے لے جایا گیا تو اس نے صرف 2 منٹ کی محنت کے بعد سارا واقعہ من وعن پولیس کو بتا دیا ۔۔پولیس اس واقعہ میں اسماعیل کی والدہ اور بھائیوں کے کردار کے حوالے سے تحقیقات کررہی ہے ، بختاور کے والد نے صاف صاف کہا ہے کہ ان لوگوں نے جائیداد ہتھیانے کے لیے میری بیٹی کو مارا ہے ، اگر وہ چپ چاپ انکا کہنا مان لیتی تو بھی اسکا شوہر اسے طلاق دے دیتا ۔۔ انہوں نے ہر صورت میں اپنا مقصد پورا کرنا تھا ۔۔۔ کاش یہ لوگ سب کچھ لے لیتے میری بیٹی کو نہ مارتے ، افسوس ہے کہ میں سمجھا تھا بیٹیوں کو انکا حق حصہ دے دوں تو اللہ کے سامنے سرخرو ہو جاؤں گا اگر پتہ ہوتا اس دولت اور جائیداد کی وجہ سے میری بیٹی مر جائے گی تو اسے ایک روپیہ نہ دیتا۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *