جڑانوالہ میں نوجوان لڑکے اور لڑکی کے قتل کیس میں نیا موڑ، تفتیشی دعوؤں نے سوشل میڈیا کی افواہوں پر سوال اٹھا دیے

فیصل آباد کے نواحی علاقے جڑانوالہ میں 22 مئی کو پیش آنے والے نوجوان لڑکے اور لڑکی کے قتل کے واقعے نے اس وقت نیا رخ اختیار کر لیا جب تفتیش کے دوران سامنے آنے والی معلومات نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے کئی دعوؤں کو مشکوک بنا دیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق 17 سالہ واصف اپنی پیدائش کے چند ماہ بعد اپنے چچا اور چچی کی سرپرستی میں پرورش پاتا رہا، جبکہ اس کی سگی والدہ کی دوسری شادی سے پیدا ہونے والی بیٹی رباب الگ خاندان میں رہائش پذیر تھی۔ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ رباب مبینہ طور پر اپنی مرضی کے خلاف ہونے والی شادی سے بچنے کے لیے اپنے بھائی واصف کے پاس چلی گئی تھی۔
رپورٹس کے مطابق اس معاملے پر پہلے بھی قانونی کارروائی ہوئی اور رباب نے عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے اپنی مرضی سے واصف کے ساتھ رہنے کا مؤقف اختیار کیا تھا۔ بعد ازاں 22 مئی کو دونوں کی لاشیں برآمد ہوئیں، جس کے بعد پولیس نے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کا آغاز کیا۔
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ دورانِ تفتیش کچھ اہم شواہد اور بیانات سامنے آئے ہیں، جن کی بنیاد پر چند افراد کو حراست میں لیا گیا۔ پولیس کے مطابق زیرِ حراست ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے جبکہ مقدمے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پر اس واقعے کے حوالے سے مختلف غیر مصدقہ دعوے بھی گردش کرتے رہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی نتیجے پر پہنچنے سے قبل مکمل تحقیقات اور عدالتی کارروائی کا انتظار کیا جانا چاہیے۔
عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کے اصل حقائق سامنے لائے جائیں اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف مل سکے۔