کلفی بیچنے والا گریجویٹ… ٹھیلے سے کلاس روم تک کا سفر

ایک نوجوان ہاتھ میں آئس کریم کا ٹھیلہ لیے اسکول کے باہر کلفیاں بیچ رہا تھا، مقصد صرف اتنا تھا کہ رزقِ حلال کما کر اپنے دن گزار سکے۔ اسے یہ معلوم نہ تھا کہ اسی دن اس کی زندگی ایک نیا رخ لینے والی ہے۔
یہ نوجوان ریاضی میں بی ایس کر چکا تھا، مگر نوکری نہ ملنے پر اس نے ہمت نہیں ہاری اور محنت سے روزی کمانا شروع کر دی۔ اسکول کے باہر اسے معلوم ہوا کہ وہاں ریاضی کا استاد موجود نہیں اور طلبہ کافی عرصے سے اس مضمون سے محروم ہیں۔
یہ سن کر اس کے اندر کا استاد جاگ اٹھا۔ اس نے اپنا ٹھیلہ ایک طرف رکھا اور کلاس روم میں جا کر بچوں کو پڑھانا شروع کر دیا۔ جو ہاتھ چند لمحے پہلے کلفیاں بیچ رہے تھے، وہی ہاتھ اب بلیک بورڈ پر سوال حل کر رہے تھے۔
اس واقعے نے یہ ثابت کیا کہ تعلیم صرف نوکری کے لیے نہیں ہوتی، بلکہ علم ایک ایسی ذمہ داری ہے جو دوسروں کی رہنمائی اور ان کا مستقبل بہتر بنانے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔