TOP STORIES

پرویز مشرف جب صدر بنے تو نصیبو لعل پر کیوں غصہ ہوئے

“2007 کا وہ غصے سے بھرا ہوا دن، جب صدارتی محل میں صدر پرویز مشرف کے سامنے نصیبو لال کانپ رہی تھی…”

تصویر کو دیکھ کر آپ کی روح کانپ جائے گی۔ نصیبو لال، ایک ایسی سنگر جس کی آواز میں وہ درد تھا کہ لوگ نورجہاں کو بھول گئے۔ لیکن 2007 میں ان کا نام فحاشی اور بے ہودگی کا نشان بن چکا تھا۔ تبھی صدارتی محل سے کال آئی۔

صدارتی محل کا وہ منظر (ملاقات):
نصیبو لال پہلی بار کسی صدر کے سامنے کھڑی تھی۔ پرویز مشرف غصے سے لال تھے۔ انہوں نے نصیبو کی پرانی کیسٹیں اور کچھ فحش گانوں کی لسٹ میز پر زور سے پٹخی اور چِلا کر پوچھا: “یہ کیا بے ہودگی ہے نصیبو؟ کیا میں نے اس ملک کے کلچر کو تباہ کرنے کے لیے تمہیں مشہور ہونے دوں؟”

سچ کا انکشاف:
نصیبو لال پھٹ پڑی۔ وہ وہیں زمین پر بیٹھ کر رونے لگی اور ایک ایسا راز کھولا جسے سن کر مشرف کا غصہ حیرت میں بدل گیا۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے بتایا: “جنابِ صدر! میں ایک ماں ہوں، میں یہ کبھی نہیں گانا چاہتی تھی۔ لاہور کے ایک بدمعاش گجر نے میرے بیٹے کے سر پر گن رکھ کر مجھ سے یہ سب کچھ گن پوائنٹ پر کروایا۔ اس نے دھمکی دی تھی کہ اگر میں نے یہ گانے نہیں گائے تو وہ میرے بیٹے کو مار دے گا!”

مشرف کا سخت فیصلہ:
نصیبو کا یہ سچ سن کر پرویز مشرف کا چہرہ سخت ہو گیا۔ انہوں نے نہ صرف نصیبو کے گانوں پر پابندی لگائی بلکہ اسی وقت آئی جی لاہور کو فون کر کے حکم دیا: “اس بدمعاش گجر کو، جو عورتوں پر ظلم کرتا ہے، فوراً انجام تک پہنچاؤ!” کہا جاتا ہے کہ اسی ہفتے وہ بدمعاش گجر پولیس مقابلے میں مارا گیا۔

نصیبو کی کہانی صرف شہرت کی کہانی نہیں، بلکہ ایک ایسی ماں کی کہانی ہے جس نے اپنے بیٹے کی جان کی خاطر اپنی عزت قربان کر دی۔ ٹرک اڈوں سے صدارتی محل تک کا یہ سفر، ذلت اور شہرت کا ایک ایسا عجیب امتزاج ہے جو کسی نے کبھی نہیں دیکھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *